کیڈٹ کالج پلندری میں کل پاکستان تقریری مقابلہ


pallandri cadet college photo 03n

پلندری–  کیڈٹ کالج پلندری کے زیر اہتمام ساتویں ’کل پاکستان دو زبانوی‘‘ تقریب مقابلہ کا انعقادتقریب کے مہمان خصوصی وزیر تعلیم سکولز میاں عدب الوحید تھے جبکہ صدارت وائس پرنسپل کیڈٹ کالج پلندری امجد علی نے کی ،تقریری مقابلہ میں پاکستان و آزادکشمیر بھر کے گیارہ کیڈٹ کالجز کے طلباء نے شرکت کی ،کیڈٹس نے اردو وانگریزی میں تقریری مقابلہ میں حصہ لیا تقریری مقابلہ میں پوزیشن لینے طلباء میں مہمان خصوصی نے انعامات تقسیم کیئے ،کیڈٹ کالج حسن ابدال کے طلباء نے نمایاں پوزیشن لیکر مقابلہ کا میدان مار لیا ،اسی طرح کیڈٹ کالج بٹراسی اورگوورنمنٹ سائنس ماڈل کالج مظفر آباد کے طلباء نے بھی پوزیشن حاصل کیں ،مہمان خصوصی نے کیڈٹ کالج میں اپنے ہاتھوں سے پودہ بھی لگایا اور کیڈٹ کالج کی طرف سے بنائی گئی ویب سائٹ کا افتتاح بھی کیا اس موقع پر مہمان خصوصی وزیر تعلیم میاں عبد الوحید نے اپنے خطاب میں کہا کہ کیڈٹ کالج پلندری ایک قومی ادارہ ہے جس سے فارغ ہونے والے کیڈٹس پاک آرمی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں یہ ادارہ ہمارے لیئے اعزاز کا باعث ہے انہوں نے کہا کہ تعلیمی میدان میں ترقی کیئے بغیر کوئی قوم اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتی ،پیپلز پارٹی کی حکومت ترجیحی بنیادوں پر تعلیمی میدان میں اصلاحات لانے کی کوشش کر رہی ہے تعلیم کے شعبہ کو ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے نوجوان نسل ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں جنکی درست سمت رہنمائی ہمارا فرض ہے کیڈٹ کالج کا نوجوان نسل کیلئے ایسی سرگرمیوں کا انعقاد لائق تحسین ہے جسے دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی ہے موجودہ دور میں جب نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہے اور انکے ہاتھوں میں بندوقیں آگئی ہیں ہماری ذمہ داری ہیکہ ان قوم کے معماروں کے ہاتھوں میں قلم دیں اور انہیں بے راہ روی سے نکال کر ملک وقوم کی خدمت کرنے کا جذبہ پیدا کریں کیڈٹ کالج کے طلباء میں حب الوطنی اور تعلیمی شوق دیکھ کر دلی مسرت ہوئی ہے یہی وہ نوجوان ہیں جو مستقبل کے معمار اور لیڈر ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کریں گے ،ادھر وزیرتعلیم سکولز نے ڈسٹرکٹ پریس کلب سدہنوتی کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام میں جو بگاڑ اور سفارش کا کلچر ہے اسے ختم کرنے میں وقت لگے گا لیکن موجودہ حکومت نے تعلیمی میدان میں نقائص کو دور کرنے کیلئے اہم اقدامات اٹھائیں ہیں 65سال کی خرابیوں کو دور کرنے میں وقت ضرور لگے گا لیکن ہم نے چیلنج سمجھ کر تعلیمی میدان میں انقلابی اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے آزادکشمیر میں چھ سو سے زائد سکول فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث کے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں جنہیں فنڈز ملتے ہی ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کیا جائے گا پرائمری سکولوں میں سفارش اور رشوت پر بھرتی ہونے کا سسٹم ختم کیا جائے تو ہماری بنیادیں درست ہو سکتی ہیں جس کرپٹ اور سفارشی نظام کیخلاف ہم نے جدو جہد اسکو پایہ تکمیل؛ تک پہنچائیں گے تدریسی نظام کو بہتر کرنے کیلئے اساتذہ کی بنیادی تعلیم بی اے ،بی ایڈ کرنے کیلئے قانون کو حتمی شکل دے رہے ہیں جو معیار تعلیم کو بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہو گا